Wednesday, January 23, 2013

نشانوں پر نگاہ رکھنا تو گھوڑوں کو سدھا رکھنا

نشانوں پر نگاہ رکھنا تو گھوڑوں کو سدھا رکھنا
انہیں دہشت زدہ رکھنا یہ مطلوب شریعت ہے

جہاں تک بس چلے طاقت و قوّت کو جمع رکھنا
کہ جنّت کی طمع رکھنا یہی اس جان کی قیمت ہے

خبر ان کی ہر ایک مرصد پہ ہر ایک گھات پر رکھنا
عدو سے آگھی رکھنا مجاہد کی بصیرت ہے

ہنر بارود کا سیکھو مزہ ایمان کا چکھو
کہ ذوق اسلحہ رکھو یہی مومن کی زینت ہے

وہ دہشت گر کہہ کے تم کو حق سے موڑنا چاہیں
تم ان کی گردنیں مارو یہ قرآن کی نصیحت ہے

اگر اب بھی نہ تم اٹھے تو کوئی اور اٹھے گا
کبھی بدلی نہیں جاتی یہ میرے رب کی سنّت ہے

تمہاری صورت و سیرت پر جو مغرب کا غازہ ہے
یہ میکالے کے دفتر سے ہوا تم کو ودیعت ہے

محبّت کھینچتی ہے شورش طوفاں میں کشتی کو
خرد کہتی ہے لیکن ٹھہرجا تیری ضرورت ہے

حرم سے یہ صدا آئی یہ کیسی اشک آرائی
میرے اسلام کو خوں دو اگر کچھ بھی حمیت ہے

ہر ایک غازی کو اے مولیٰ امام المتّقی کردے
ہمیشہ متقی کے ساتھ جو تیری معیت ہے۔

نشانوں پر نگاہ رکھنا تو گھوڑوں کو سدھا رکھنا
انہیں دہشت زدہ رکھنا یہ مطلوب شریعت ہے

No comments:

Post a Comment